آج کل میں ابدال بیلا کی کتاب پڑھ رہی ہوں۔
AQAA
اس کے دوسرے باب کا تصور، “محفوظ کیے گئے قدم”، مجھ پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔ مجھے پہلے ہی اس بات کا یقین تھا کہ میری زندگی کے تمام فیصلے صرف میرے اپنے نہیں؛ کچھ فیصلے مجھ سے کروائے جاتے ہیں۔ اس تصور نے میرے اسی یقین کو مزید واضح اور مستحکم کر دیا۔
یہاں قدموں سے مراد محض وہ حقیقی قدم نہیں جو زمین پر اٹھائے جاتے ہیں، بلکہ وہ فیصلے، ارادے اور خیالات ہیں جو نہایت خاموشی سے ہمارے دل و دماغ میں رکھ دیے جاتے ہیں۔ ہمیں خود بھی خبر نہیں ہوتی کہ یہ فیصلے ہمیں کس سمت لے جائیں گے۔ بس اندر کہیں یہ یقین موجود رہتا ہے کہ ہمارے نصیب میں ایک طویل سفر لکھ دیا گیا ہے؛ ایسا سفر جو ظاہری کم اور باطنی زیادہ ہے۔
اور چونکہ یہ سفر ظاہری نہیں، اس لیے ہجوم کی نگاہوں کو دکھائی بھی نہیں دیتا۔ اس کی تمام جنگیں، معرکے، ٹوٹ پھوٹ، اتھل پتھل، نیست و نابود ہونا اور پھر ازسرِنو تعمیر ہونا—سب کچھ دل و دماغ کے میدان میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔
یہاں مسئلہ میدان کا نہیں، انسان کے اپنے وجود کا ہے۔
خود سے ہار کر خود ہی سے جیتنا،
خود تلوار بن کر اپنے ہی وجود کو کاٹنا،
پھر اپنے ہی بہائے ہوئے خون پر مرہم رکھنا،
خود کو گرنے سے بچانا،
دوبارہ کھڑا کرنا،
اور پھر ایک نئی جنگ کے لیے خود کو ازسرِنو تیار کرنا—
شاید یہی باطنی سفر ہے۔
محفوظ کیے گئے قدم دراصل وہ فیصلے ہیں جو ہم سے کروائے جاتے ہیں۔ اگر انسان کے اندر کوئی میدانِ جنگ آباد ہی نہیں، تو شاید اس کے قدم ابھی محفوظ نہیں ہوئے۔
میرا سفر ابھی جاری ہے۔ لوگ میرے فیصلوں کو پہلے بھی پورے یقین سے غلط قرار دیتے تھے اور آج بھی دیتے ہیں، کیونکہ میرے معرکوں کا کوئی ظاہری گواہ موجود نہیں۔ اور گواہ اس لیے نہیں کہ میرے پاس کوئی ایسا نمایاں کارنامہ نہیں جس کا میں ڈھنڈورا پیٹ سکوں—زبان سے نہ سہی، اپنی حیثیت اور مرتبے کے ذریعے ہی سہی۔
باطنی کامیابیاں ہر ایک کے فہم کی بات نہیں ہوتیں۔ پھر کچھ لوگ ظاہری کامیابیوں کے مجسمے تو ہوتے ہیں، مگر اگر انہیں کسی دوسرے کی باطنی فتح سمجھ بھی آ جائے، تب بھی وہ اعتراف کی کشتی میں سوار ہونے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا محفوظ کیے گئے قدموں کے حامل لوگوں کو دوسروں کی رائے سے کوئی فرق پڑتا ہے؟
جواب ہے: نہیں۔
کیونکہ اگر فرق پڑتا، تو ان کے قدم—یعنی ان کے ارادے—کب کے ٹوٹ چکے ہوتے۔
مگر وہ ٹوٹتے بھی کیسے؟
وہ تو ازل ہی سے محفوظ کیے جا چکے ہوتے ہیں۔